میں نے کہا خراب ہوں گردشِ چشم مست سے

میں نے کہا خراب ہوں گردشِ چشم مست سے
اس نے کہا کہ رقص کر سارا جہاں خراب ہے
نامعلوم

7 comments :

ہم جو شاعر ہیں سخن سوچ کے کب کرتے ہیں نے لکھا ہے کہ

یہ شعر علی زریون صاحب کا ہے

ہم جو شاعر ہیں سخن سوچ کے کب کرتے ہیں نے لکھا ہے کہ

یہ شعر علی زریون صاحب کا ہے

Unknown نے لکھا ہے کہ

پوری غزل!؟؟

Unknown نے لکھا ہے کہ

زریون جیسی چول سے ایسے شعر کی امید تو نہیں کی جاسکتی!

Unknown نے لکھا ہے کہ

پوری غزل مل سکتی ہے ؟؟؟؟؟

chartered accountant نے لکھا ہے کہ

واہ واہ واہ۔ دوسرا مصرع کا کرافٹ ایوارڈ کا حقدار ہے

Unknown نے لکھا ہے کہ

Apny lavel ka comment kiya ap ny

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

توجہ فرمائیے: میں آپ کا ممنون ہوں گا اگر آپ مندرجہ بالا کلام کی بابت کچھ نیا بیان کر سکیں۔ نیچے دیا گیا خانہ آپ کی آراء کے لیے وقف ہے۔ شاد باشید!

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔